بجلی خرابی کی شکایات پر پیپکو کے مضحکہ خیز جواب

بجلی خرابی کی شکایات پر پیپکو کے مضحکہ خیز جواب

ہری پور: پاکستان کے شمالی صوبہ خیبرپختونخوا کے غالب حصہ میں بجلی کی مسلسل فراہمی کے ذمہ دار ادارے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام کی جانب سے بجلی مسائل کا شکار سائلین کو مضحکہ خیز جواب دے کر ٹالنے کی روش برقرار ہے۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کے مطابق عوامی مسائل پر عدم توجہی اور غیر سنجیدگی کا شاہکار کہے جاسکنے والے رویہ کا حالیہ ثبوت پیپکو ہزارہ سرکل کی جانب سے فراہم کیا گیا۔

نمائندہ کے مطابق جمعہ کو پیپکو ہزارہ سرکل کے رابطہ نمبر 0992-9310089 پر اطلاع دی گئی کہ ہری پور شہر میں واقعہ پانڈک نامی آبادی میں اکیس اور بائیس جولائی کی درمیانی شب دو بجے سے بجلی نہیں ہے۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں ہری پور ضلع میں پیپکو یا واپڈا حکام سے رابطہ کیا گیا تاہم 16 گھنٹوں بعد بھی مسئلہ حل ہونے یا اس کے لئے کسی کوشش کے کوئی آثار نہیں۔ مقامی حکام کے اس رویہ پر ہزارہ سرکل رابطہ کیا گیا تاکہ شنوائی ہو سکے۔

شکایت سننے والے پیپکو اہلکار نے انتہائی مضحکہ خیز جواب دیتے ہوئے صارف سے کہا کہ وہ فون پر رابطے کرنے کی کوشش نہ کریں مقامی لوگوں کو جمع کر کے واپڈا دفتر پہنچیں تاکہ ان کا مسئلہ حل ہو سکے۔

عجیب و غریب جواب سن کر صارف نے زمینی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ گھر پر صرف خواتین اور بچے ہیں جو آپ کے تجویز کردہ حل پر عمل سے معزور ہیں، تاہم مسئلہ حل کرنے یا اس کی کوشش کا اقرار کرنے کے بجائے ہزارہ سرکل کے کسٹمر سروس کی جانب سے دیے گئے نمبر پر موجود اہلکار نے بات ہوا میں اڑا دی۔

ہزارہ ڈویژن میں بجلی کے فراہمی اور اس سے وابستہ معاملات کے ذمہ داری پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ہزارہ سرکل کی جانب سے رابطہ پر یہ جواب بھی دیا گیا کہ ٹرانسفارمر میں کوئی خرابی ہے جس کا حل دو یا تین دنوں میں ہو گا۔

پیپکو کے رویہ پر وزیراعلی شکایت سیل کے دیے گئے ایل میل ایڈریس اور رابطہ نمبر پر بھی شکایات درج ہونے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے تاہم عوامی خدمات فراہم کرنے والے محکموں اور ان کے اہلکاروں کا رویہ عوام دوست ہونے میں خاصا سفر باقی لگتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *