کشمیر میں بھارتی درندگی پر فیس بک کا رویہ

کشمیر میں بھارتی درندگی پر فیس بک کا رویہ

اسلام آباد/سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں طویل عرصہ سے بھارتی درندگی کا شکار کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور اسے باقی جگہوں تک پہنچنے سے روکنے کے اقدامات غاصب بھارت اور اس کی فوج سے خاص تھے لیکن حالیہ واقعات میں فیس بک کے متنازعہ کردار نے متعدد سوال کھڑے کئے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کی علامت بن جانے والے 22 سالہ نوجوان برہان مظفر وانی کو سرینگر کے قریب بھارتی فوجیوں نے شہید کیا تو پوری وادی میں شدید احتجاج سامنے آیا۔

اس دوران برہان وانی کے نماز جنازہ کے اجتماع کو وادی میں ہونے والا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا گیا۔

بھارتی فوج نے کشمیریوں کی آواز کو ایک بار پھر بزور قوت دبانے کیلئے 70 سے زائد مقامی اخبارات کو بند کر دیا جس کے بعد اطلاعات کے حصول اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور ان کی تکلیف محسوس کرنے والے لوگوں نے سماجی رابطوں کی سائٹس کو اپنا ذریعہ بنا لیا۔

یہ عمل شروع ہوتے ہی فیس بک نے ایسی پروفائلز، پیجز اور پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیا جن میں برہان مظفر وانی کی شہادت، ان کے جنازہ یا اس کے بعد جاری بھارتی مظالم کے متعلق بات کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی درندگی کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد شہید، درجنوں آنکھوں سے محروم اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ سینکڑوں لوگوں کو گرفتار یا نظربند کر دیا گیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے جاری اقدامات کا دائرہ صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں بلکہ اسے دنیا بھر میں پھیلایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا میں کشمیری طالبہ ہماڈار کا اکائونٹ اس لئے ڈیلیٹ کر دیا گیا کہ انہوں نے برہان وانی کے جلوس جنازہ کی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔

معروف پاکستانی اداکار اور ٹی وی ہوسٹ حمزہ علی عباسی کی بھی کشمیر کے حالات کے حوالے سے جاری کی گئی پوسٹ کو فیس بک نے ڈیلیٹ کر دیا۔

کشمیر مانیٹر کے لیے لکھنے والے صحافی مبشر بخاری کہتے ہیں: ’جب میں کل کام پر آیا، میں نے دیکھا کہ فیس بک نے وہ ویڈیو ہٹا دی تھی جو ہم نے لگائی تھی۔ اس ویڈیو میں علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کو برہان وانی کی موت کی مذمت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس سے پہلے ہمارے فیس بک کے صفحے پر سے کبھی کوئی چیز نہیں اتاری گئی تھی۔‘

رضوان نامی فیس بک یوزر کے اکائونٹ کو بھی اس وقت بلاک کر دیا گیا جب انہوں نے برہان وانی کی تصویر کو اپنی پروفائل پکچر بنایا۔

فیس بک کے اقدام پر سخت نالاں نظر آنے والے رضوان کا کہنا تھا کہ فیس بک کا یہ عمل ’اسلام و فوبیا‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ہی کیوں بلاک کیا جاتا ہے؟ بھارتی فوج کے مظالم کی حمایت کر کے فیس بک یکطرفہ دکھائی دے رہی ہے،دوسرے لوگ جو چاہے کہہ سکتے ہیں لیکن جب مسلمان کچھ کہیں تو ہمیں بلاک کر دیا جاتا ہے، یہ نارمل نہیں ہے۔

کشمیری بلاگر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم زرگر یاسر نے بتایا کہ ’کوئی اخبارات نہیں ہیں اور ہمارے پاس صرف دو ٹی وی چینل ہی آتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے وانی کے متعلق ایک بلاگ پوسٹ کو لنک کیا تو ان کا اکاؤنٹ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے کے لیے بلاک کر دیا گیا اور کچھ پوسٹس ہٹا دی گئیں۔

یاد رہے کہ کشمیر کے بعض علاقوں میں اب بھی کرفیو نافذ ہے اور موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی بدستور معطل ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *