ترکی میں متوازی نظام کے خاتمے کے لئے کوششیں

ترکی میں متوازی نظام کے خاتمے کے لئے کوششیں

انقرہ:ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ریاستی اداروں میں قائم کئے جانے والے متوازی نظام کے خاتمہ کیلئے جاری کوششیں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔

دی نیوز ٹرائب ڈاٹ کام ترکی ڈیسک کے مطابق اردوغان حکومت کی جانب سے فوجی بغاوت اور اس دوران مارے جانے والے ترکوں کی اموات کی وجہ بننے والوں سے سختی سے نمٹنے کے عزم پر قائم ہے۔

اس عمل کے دوران اب تک ترکی میں فوجیوں، ججز، اساتذہ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 9 ہزار افراد کو حراست میں لینے کے بعد متعدد کو ملازمتوں سے برخاست یا معطل کیا جا چکا ہے۔

بغاوت کی ناکامی کے بعد جاری کارروائی میں اب تک درجہ ذیل اداروں میں صفائی کا عمل ہوا ہے۔:

٭ 118 جرنیلوں سمیت 7500 فوجی زیر حراست

٭ آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں برطرف

٭1481 ججوں سمیت عدلیہ سے تین ہزار عہدیدارفارغ

٭ محکمہ تعلیم سے 15 ہزار دو سو ٹیچروں کے لائسنس منسوخ

٭ پرائیوٹ سکولوں سے تعلق رکھنے والے 21 ہزار کے لائسنس منسوخ

٭ 1577 یونیورسٹی ڈینز کو کہا گیا ہے کہ وہ مستعفی ہوں

٭ وزارت خزانہ سے 1500 لوگ برطرف

٭ 492 کلرک، مبلغ اور مذہبی استاد بھی ملازمتوں سے فارغ

٭سوشل پالیسی منسٹری 393 افراد برخاست

٭ وزیر اعظم کے دفتر سے257 افراد فارغ

٭ خفیہ اداروں کے ایک سو اہلکارمعطل

اگر چہ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن بغاوت میں ملوث ہونے کی تردید کر چکے ہیں تا ہم اس کی ناکامی کے بعد گرفتار ہونے والوں نے متعلقہ اداروں کو بتایا ہے کہ وہ بغاوت میں شریک تھے۔

فتح اللہ گولن کے ایک ماننے والے کے مطابق بغاوت کا حکم ایک نجی تعلیمی ادارے کے استاد جسے بگ برادر بھی کہا جاتا ہے، سے آیا تھا۔

بغاوتوں کی ناکامی کے بعد ہونے والے اقدامات کے برعکس ترک حکام صرف انہی کارروائیوں تک محدود ہیں جن کے اقتدار پر قبضہ کی کوشش سے تعلق کے متعلق وہ زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کا بہت کم امکان ہے کہ ترکی میں مارشل لاء لگا دیا جائے کیونکہ ناکام بغاوت کی بعد فوج کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

لیکن ہنگامی اقدامات کیےجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا، جن میں بغیر کسی الزام کے لوگوں کو حراست میں رکھنا اور پارلیمانی منظوری کے بغیر ہی سرکاری اہلکاروں کو برخاست کرنے کے اختیارات میں توسیع ہو سکتی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *