بغاوت کے بعد ترک صدرکوقتل کرنے کا منصوبہ

بغاوت کے بعد ترک صدرکوقتل کرنے کا منصوبہ

انقرہ:ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد گرفتارہونے والے فوجیوں نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ کامیابی کی صورت میں طیب اردوغان کوگرفتاریا قتل کرنےکا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

ترک صوبے ازمیرمیں زیرتفتیش فوجیوں نے اس خوفناک منصوبہ بندی سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا ’’ہمیں کہا گیا تھا کہ ترک صدر اردوغان چھٹیاں گزارنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مارماریس کے جنوب مغرب میں جس ہوٹل میں مقیم ہیں ، اُس پر حملے کے دوران ایک اہم دہشت گرد شخصیت کو گرفتار کیا جائےگا‘‘۔

دوسری جانب ترکی میں شائع ہونے والے اخبار’حریت‘نے لکھا ہے کہ بغاوت کے بعد ترک صدر کو حراست میں لینے کے لیے ایک فضائی اڈے سے چالیس تربیت یافتہ فوجی روانہ ہوئے تھے اور فوجیوں کے ہاتھوں صدر کے دومحافظ ہلاک بھی ہوئے تھے جبکہ بغاوت میں ناکامی کی خبر سامنے آتے ہیں تمام فوجی مشن ادھورا چھوڑ کرفرار ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ ترک صدر نے “سی این این” کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اگر وہ ہوٹل میں 10 سے 15 منٹ رکے رہتے تو قتل کر دیے جاتے یا گرفتار ہوجاتے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *